سابق دور حکومت میں پاکستان اسٹیل 500 ارب کا بوجھ بن گئی – اردو سائٹ

سابق دور حکومت میں پاکستان اسٹیل 500 ارب کا بوجھ بن گئی - ایکسپریس اردو
http://mouj.pk/product/heamo-tablet/

انتظامی اسٹرکچرادھورا،سی ای اونہ ایگزیکٹوڈائریکٹرز،24میںسے صرف1جی ایم موجود۔ فوٹو: فائل

 کراچی: سابقہ حکومت کے دور میں پاکستان اسٹیل کے خسارے اور واجبات کی مالیت میں 250ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ پلانٹ بند ہونے کی وجہ سے اسٹیل مصنوعات کی درآمد پر بھی 2.5 ارب ڈالر کا زرمبادلہ خرچ ہوا۔

پاکستان اسٹیل کو گیس کی فراہمی جون 2015میں واجبات کی عدم ادائیگی پر بند کردی گئی، اس وقت پاکستان اسٹیل پیداوار کے قابل تھا اور پلانٹ کو 40فیصد پیداواری گنجائش پر چلانے کا عملی مظاہرہ کیا جاچکا تھا، پاکستان اسٹیل کو گیس کی سپلائی بند کرکے درحقیقت اس اہم ترین قومی اثاثے کی آکسیجن بند کردی گئی، 3 سال گزرنے کے باوجود پیداوار بحال نہیں ہوسکی۔

پاکستان اسٹیل کے ذرائع کے مطابق بورڈ آف ڈائریکٹر زکو ربڑ اسٹمپ سے زائد حیثیت نہیں دی گئی، مل کو چلانے کے لیے انتظامی صلاحیتوں سے عاری افراد کو ذمے داریاں سونپی جاتی رہیں، مل کے انتظامی امور ایڈہاک بنیادوں پر چلائے جاتے رہے، اس وقت بھی انتظامی اسٹرکچر ادھورا پڑا ہے.

پاکستان اسٹیل سی ای او کے بغیر چلائی جارہی ہے جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کی 8آسامیاں خالی پڑی ہیں جبکہ 24 جنرل منیجرز میں سے صر ف 1جنرل منیجر موجود ہے، پاکستان اسٹیل کے موجودہ واجبات اور خسارے کی مالیت 450ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پاکستان اسٹیل کے خسارے اور واجبات کی مالیت 200ارب روپے تھی جس میں ن لیگ کے دور حکومت میں مزید 250ارب روپے کا اضافہ ہوا، کسی قسم کی پیداوار کے بغیر پاکستان اسٹیل ماہانہ 1ارب 70 کروڑ روپے نگل رہی ہے جس میں 80کروڑ روپے واجبات پر سود کی مد میں ہر ماہ عائد ہورہے ہیں جبکہ تنخواہوں اور دیگر عمومی اخراجات کی مالیت بھی 90کروڑ روپے ماہانہ ہے۔

پاکستان اسٹیل اسٹیک ہولڈرز گروپ نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو حکومت کی مدت ختم ہونے سے قبل بھی پاکستان اسٹیل کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے اس اہم قومی اثاثے کو بوجھ میں تبدیل کرنے والے عناصر کے خلاف تحقیقات اور شفاف احتسابی کارروائی کی اپیل کی تاہم حکومت کی جانب سے کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز
https://www.express.pk/story/1198907/6