فنانس ایکٹ کے اطلاق سے مہنگائی کا نیا طوفان امڈ آیا، 93 ارب کے نئے ٹیکس لاگو – اردو سائٹ

فنانس ایکٹ کے اطلاق سے مہنگائی کا نیا طوفان امڈ آیا، 93 ارب کے نئے ٹیکس لاگو - ایکسپریس اردو
http://mouj.pk/product/heamo-tablet/

اشیا ضروریہ کے دام بڑھ گئے،184ارب50کروڑکاٹیکس ریلیف بھی دیدیاگیا۔ فوٹو : فائل

اسلام آباد: مالی سال 2018-19 کے فنانس ایکٹ کے اطلاق کے بعد ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آ گیا ہے۔

مالی سال 2018-19 کے شرو ع ہوتے ہی ملک میں فنانس ایکٹ 2018-19 کا اطلاق ہو گیا ہے جس کے بعد بجٹ میں لگائے گئے 93 ارب روپے کے ٹیکس عائد ہوگئے ہیں جن کی وجہ سے ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان آگیا ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ فنانس بل کے نافذ ہونے کے بعد اب نان فائلرز ملک میں تیار کی گئی نئی گاڑی یا درآمد کی گئی گاڑی نہیں خرید سکیں گے۔

نان فائلرز کے لیے 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد خریدنے پر پابندی عائد ہوگئی ہے۔ رکشے کے ٹائروں پر کسٹم ڈیوٹی 11 سے بڑھ کر 20 فیصد اور سویا بین آئل پر کسٹم ڈیوٹی بڑھ گئی ہے۔ ملک میں 10 ہزار سے 40 ہزار روپے والے موبائل فون پر 1000 روپے اور 40 ہزار سے 80 ہزار وپے کے موبائل فون پر 3000 روپے کے ٹیکس کا اطلاق ہو گیا ہے۔ 80 ہزار روپے سے زائد مالیت کے موبائل فون پر 5000 روپے کا ٹیکس کر دیا گیا ہے۔

فنانس ایکٹ کے نفاذ کے بعد سالانہ 4 لاکھ سے 8 لاکھ روپے آمدن پر 1 ہزار روپے انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا جبکہ 8 لاکھ سے 12 لاکھ سالانہ آمدن پر 2 ہزار روپے انکم ٹیکس عائد ہوگا۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 29 ارب کے ٹیکسز عائد اور سیلزٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 50 ارب 40 کروڑ روپے کا ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جن کا اطلاق بھی ہو گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے مالی سال 2018-19 کے بجٹ میں دیے گئے184 ارب 50 کروڑ روپے کا ٹیکس ریلیف بھی عوام کو فراہم کر دیا گیا ہے۔ رواں مالی سال کے فنانس ایکٹ کے نفاذ کے بعد استعمال شدہ کپڑوں اور جوتوں کی درآمد پر ویلیو ایڈیشن ٹیکس اور آلات سماعت کی درآمد پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ بجٹ میں کیے گئے اعلان کے تحت اسپیشل اکنامک زونز کے لیے مشینری کی درآمد پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ دے دی گئی ہے اور پروموشن، ایڈورٹائزنگ کے مواد کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ کا اطلاق ہوگیا ہے۔

سابق حکومت کی جانب سے کیے گئے اعلان کے تحت فرٹیلائزرز پر سیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم ہوکر 2 فیصد اور ایل این جی کی درآمد پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم ہوکر 12 فیصد ہوگئی ہے جس سے ایل این جی کی قیمت میں کمی آئے گی۔

کوئلے کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی 5 فیصد سے کم ہوکر 3 فیصد ہوگئی ہے۔ فنانس ایکٹ کے عائد ہونے کے بعد اب الیکٹرک گاڑیوں کی کٹس کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی 50 سے کم ہوکر 25 فیصد الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر 15 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم ہوگئی ہے۔ ملک میں نایاب کاروں اور جیپوں کی درآمد پر 5000 ڈالر فکسڈ ٹیکس عائد ہو چکا ہے۔

مالی سال 2018-19 کے فنانس ایکٹ کے اطلاق کے بعد آگ بجھانے والی گاڑیوں کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی 30 فیصد سے کم ہوکر 10 فیصد تک آگئی ہے۔ حکومت کی جانب سے قرآن پاک کی طباعت کے لیے استعمال ہونے والے کاغذ کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز
https://www.express.pk/story/1222961/6