ایف اے ٹی ایف شرائط، ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ میں خصوصی سیل قائم – اردو سائٹ

ایف اے ٹی ایف شرائط، ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ میں خصوصی سیل قائم - ایکسپریس اردو
http://mouj.pk/product/heamo-tablet/

بنیادی مقصد پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کیلیے مجوزہ جامع ایکشن پلان پرموثر عملدرآمد یقینی بنانا ہے،دستاویز۔ فوٹو : فائل

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے منی لانڈرنگ، ٹیررازم فنانسنگ اورغیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ روکنے کے حوالے سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط پوری کرنے کیلیے ماڈل کسٹمزکلکٹریٹ میں خصوصی سیل قائم کردیے ہیں۔

’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلیے ماڈل کسٹمزکلکٹریٹ اور انسداد اسمگلنگ ڈپارٹمنٹ میں خصوصی طور پر یہ سیل قائم کیے گئے ہیں جو اپنے زیر کنٹرول علاقے میں موثر مانیٹرنگ کررہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ کو ہدایت کی ہے کہ زمینی راستے سے کرنسی کی اسمگلنگ کو روکنے کیلیے مانیٹرنگ و پٹرولنگ کو موثر بنایا جائے اور اسمگلروں سے پکڑی جانے والی کرنسی اورگرفتار ہونے والے اسمگلروں کے بارے میں باقاعدگی کے ساتھ ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز کو رپورٹ ارسال کی جائے۔

اس سے قبل فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے منی لانڈرنگ اور ٹیررازم فنانسنگ کی روک تھام کے حوالے سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط پوری کرنے کیلیے تمام بندرگاہوں و سمندری و زمینی راستوں سے داخلی و خارجی پوائنٹس پر کراس بارڈر کرنسی اینڈ بی این آئی کنٹرول یونٹس قائم کرنے کا فیصلہ کیا جاچکا ہے جس کا بنیادی مقصد پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کیلیے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے تجویز کردہ اقدامات پر عملدرآمد کے لیے جمع کروائے جانے والے جامع ایکشن پلان پرموثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور ٹیررازم فنانسنگ کی روک تھام کیلیے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور ایشیا پیسفک گروپ (اے جے پی) کو جمع کروائے جانے والے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے بارے میں پہلی پراگرس رپورٹ تیار کی جارہی ہے اور ایشیا پیسفک گروپ (اے جی پی) کا اعلی سطح کا وفد رواں عشرے کے دوران پاکستان آرہا ہے اور اس گروپ کے وفد کو یہ رپورٹ پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ٹیررازم فنانسنگ کے لیے استعمال ہونے والے مختلف اقسام کے کیش کوریئرز کے حوالے سے خطرات و خدشات کی نوعیت کی نشاندہی کے لیے افسران کی خصوصی تربیت کی جارہی ہے تاکہ ٹیررازم فنانسنگ کے لیے استعمال ہونے والے کیش کوریئرز کی نشاندہی کی جاسکے اورکیس کوریئرز کے ذریعے ٹیررازم فنانسنگ کے خطرات کو کم سے کیا جاسکے اور اس خصوصی تربیت کے حامل افسران کو بندرگاہوں، و زمینی و سمندری داخلی و خارجی پوائنٹس پر قائم کیے جانے والے کراس بارڈر کرنسی اینڈ بی این آئی کنٹرول یونٹس میں تعینات کیا جارہا ہے۔

 

بشکریہ ایکسپریس نیوز
https://www.express.pk/story/1276646/6