بفرزون میں لوٹ مار کے دوران ڈاکوؤں نے 2 دکاندار قتل کردیے – اردو سائٹ

بفرزون میں لوٹ مار کے دوران ڈاکوؤں نے 2 دکاندار قتل کردیے - ایکسپریس اردو
http://mouj.pk/product/heamo-tablet/

ڈکیت ایک موٹرسائیکل چھوڑکر فرار،ایک ڈکیت بغدے کے وار سے زخمی بھی ہوا۔ فوٹو : فائل

کراچی: بفرزون میں گوشت کی دکان میں لوٹ مار کے دوران ڈاکوؤں نے فائرنگ کرکے دکان کے مالک اور اس کے ملازم کو قتل کردیا۔

تیموریہ تھانے کی حدود بفرزون سیکٹر15اے 5 غوث اعظم مسجد کے قریب 2 موٹرسائیکلوں پر سوار2 مسلح ڈاکو گوشت کی دکان منیر پولٹری فارم میں داخل ہوئے اور اسلحے کے زور پر دکان میں موجود گاہکوں سے لوٹ مارکرنے لگے تو دکان مالک اور ملازم نے ڈاکوؤں کو پکڑنے کی کوشش کی جس پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کردی جس سے دکان مالک اور ملازم شدید زخمی ہوگیا۔

واردات کے بعد ڈکیت ایک موٹرسائیکل موقع پر چھوڑ کر فرار ہوگئے اورکچھ فاصلے پر جاکر ڈاکوؤں نے ایک اور موٹرسائیکل چھینی اور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، فائرنگ سے زخمی ہونے والے دکان مالک اور ملازم کو تشویش ناک حالت میں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ ایک زخمی اسپتال پہنچنے سے قبل ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا جبکہ دوسرا زخمی عباسی شہید اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا۔

فائرنگ کی اطلاع ملنے پر ڈی ایس پی ناصربخاری اور ایس ایچ او انسپکٹر آصف منور نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کرلیے ایس ایچ او آصف منور نے صحافیوں کو بتایا کہ دکان میں فائرنگ کے واقعے میں  جاں بحق افراد کی شناخت40 سالہ محمد سلیم اور30 سالہ محمد دانش کے نام سے ہوئی ہے مقتول محمد سلیم دکان کا مالک اور محمد دانش ملازم تھا جبکہ دونوں آپس میں رشتے دار بھی تھے جاں بحق افراد نیوکراچی پیلا اسکول کے قریب کے رہائشی بتائے جاتے ہیں انھوں نے بتایا کہ دکان میں لوٹ مار کی واردات کے دوران بغدے کے وار سے ایک ڈاکو بھی زخمی ہوا ہے جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

انھوں نے بتایا کہ جائے وقوع سے9 ایم ایم پستول کے 4 چلیدہ خول اور30 بور پستول کی 4 گولیاں ، ایک میگزین اور 2500 روپے ملے ہیں جبکہ جائے وقوع سے ایک ڈکیت کی جیب کا ٹکڑا بھی ملا ہے انھوں نے بتایا کہ دہرے قتل کی واردات ابتدائی طورپر ڈکیتی میں مزاحمت کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے پولیس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے جس سے تفتیش کو آگے بڑھایا جاسکے۔

واقعے کے بعد علاقہ مکینوں نے شدید  غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا اور بتایا کہ علاقے میں لوٹ مارکی وارداتیں عام ہوگئی ہیں آئے دن کسی نہ کسی کو کھلے عام لوٹ لیا جاتا ہے پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب شاہراہ نور جہاں تھانے کی حدود شادمان ٹاؤن میں نامعلوم مسلح ملزمان گاڑی پر فائرنگ کرکے فرار ہو گئے فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار نوجوان شدید زخمی ہوگیا جسے تشویشناک حالت میں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں زخمی نوجوان کی شناخت 30 سالہ نوید غوری ولد مسعودغوری کے نام سے ہوئی۔

بعدازاں زخمی نوجوان کو نارتھ ناظم آباد کے نجی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں مضروب چند گھنٹے موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد اتوارکی صبح دوران علاج دم توڑ گیا، مقتول مکان نمبر آر 9 شاد مان ٹاؤن کا رہائشی تھا اور4 ماہ قبل ہی مقتول کی شادی ہوئی تھی۔

اس حوالے سے ایس ایچ او محمد زبیر نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول نوید کی سرینہ موبائل مارکیٹ میں موبائل کی دکان ہے اور مقتول ہفتے کی شب ایک بجے دکان بند کرکے گھر جا رہا تھا کہ شادمان نمبر 2 کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان نے گاڑی پر فائرنگ کرکے اسے قتل کردیا۔

انھوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے تاہم  پولیس نے جائے وقوع سے9 ایم ایم پستول کے2 خول قبضے میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے انھوں نے بتایا کہ مقتول نوجوان کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر ادا کی گئی اور مقتول کو مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

 

بشکریہ ایکسپریس نیوز
https://www.express.pk/story/1175934/1