بیٹیاں باپ کی جان اور شان – اردو سائٹ

http://mouj.pk/product/heamo-tablet/

ایک باپ کا بیٹی کے ساتھ مشفقانہ رویہ اس میں خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

ملک وال: خالق دو جہاں نے اس دنیا کو بہت خوب صورت بنایا ہے اور اس کی خوب صورتی کو مختلف چیزوں اور رشتوں میں پنہاں کیا ہے۔ ان رشتوں میں سے ایک قدرت کا انمول تحفہ بیٹی بھی ہے، مگر کچھ لوگ اس رحمت کو زحمت سمجھتے ہیں۔

باپ اور بیٹی کا رشتہ اللہ رب العزت نے بہت مقدس بنایا ہے اور اس رشتے کو بہت خوب صورت احساس سے نوازا ہے۔ بیٹیاں باپ کے آنگن کی رونق ہوتی ہیں۔ عام طور پر کہا یہ جاتا ہے کہ مائیں بیٹوں سے زیادہ پیار کرتی ہیں جب کہ باپ بیٹیوں سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔ باپ اپنی اولاد کے لیے گھنے درخت کی مانند ہوتا ہے جو اپنی بیٹیوں کو زمانے کے سردوگرم سے بچا کر رکھتا ہے جس کے سائے میں بیٹیاں پروان چڑھتی ہیں اور لاڈ پیار میں رہتی ہیں اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ گھل مل کے زندگی سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔

ماں کی نسبت باپ کا بیٹیوں کے ساتھ حوصلہ افزا رویہ ان کی صلاحتیوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایک باپ کا بیٹی کے ساتھ مشفقانہ رویہ اس میں خود اعتمادی پیدا کرتا ہے جس کی بنیاد پر بیٹیاں مضبوط بنتی ہیں اور کامیاب زندگی گزارنے کے قابل بنتی ہیں۔

ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیاں ہوش سنبھالنے سے لے کر اپنے گھربار کی ہونے تک اس پورے درمیانی عرصے میں اپنے باپ کی توجہ کی زیادہ طالب ہوتی ہیں اور جوں جوں ان کی عمر بڑھتی ہے،  ان کے دل میں باپ کو چاہنے اور ان کی جانب سے چاہے جانے کی خواہش میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لڑکیاں اپنے باپ کے متعلق اپنی اس خواہش کا برملا اظہار کرتی رہتی ہیں۔

مطمئن اور آسودہ خاندانوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ  جووہ باپ اپنی بیٹیوں سے محبت کا اظہار کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں،  وہ اپنی بیٹیوں سے محبت کے اظہار کے لیے مصنوعی چیزوں کا سہارا لیتے ہیں مثلاً امتحان میں کامیابی پر تحفہ دینا یا سال گرہ یاد رکھنا وغیرہ۔

بعض باپ اپنی بیٹیوں سے محبت کے اظہار کے لیے ان کی ماں یعنی اپنی بیوی سے انسیت کا اظہار کرتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ ’’ایک شوہر کے اپنی بیوی سے انس اور دلی لگاؤ کے اثرات بڑی حد تک ان کے بچوں خصوصاً لڑکیوں پر پڑتے ہیں۔ ایسے خاندانوں میں جہاں میاں بیوی کے تعلقات ناخوشگوار رہتے ہوں،  ان کے بچوں میں بعض ایسے مختلف اقسام کے جسمانی عوارض جنم لیتے ہیں جو بعد ازاں پوری زندگی ان بچوں کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔ اس سے نہ صرف ان کی  شخصیت متاثر ہوتی ہے،  بلکہ ان کی خود اعتمادی کا بھی خاتمہ ہوتا ہے، اس لیے میاں بیوی کے تعلقات کا خوشگوار ہونا بہت ضروری ہے۔

ایک باپ اپنی بچیوں کو بے شک ہر سہولت دے دے، لیکن اگر وہ خود ان کو وقت نہ دے تو سہولتیں بھی اس کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔ بچیاں باپ کی توجہ اور موجودگی چاہتی ہیں اور ان کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی ہیں۔ ہمارے ہاں یہ بات بہت عام ہے کہ لڑکیا پرایا دھن ہوتی ہیں، اس لیے ان کے ساتھ زیادہ  لاڈ پیار نہ کیا جائے، بلکہ انہیں پرایا دھن سمجھا جاتا ہے جبکہ سسرال میں بھی انہیں وہ مقام نہیں ملتا جس کی وہ مستحق ہوتی ہیں۔  باپ بیٹیوں کو نظر انداز کرتے ہیں جو کہ ایک غلط سوچ ہے۔ باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنی  بیٹیوں کو بیٹوں سے بھی زیادہ  شفقت اور پیار دے۔

کیوں کہ سسرال میں بچیاں اپنے بابل کے گھر کا پیار یاد کرتی ہیں اور خوش ہوتی ہیں۔ باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بچیوں کو وقت دے اور انہی کبھی کبھار باہر کچھ کھلانے بھی لے جائے۔ یوں بچیوں کے دل میں باپ ایک مثالی باپ بن جاتا ہے جو ان سے پیار کرتا ہے۔

مائیں اکثر بچیوں کو باپ سے ڈرانے کی کوشش کرتی  ہیں، اسی لیے جب ان سے کوئی غلطی ہو جائے تو فوراً باپ کی دھمکی دیتی ہیں جس کی وجہ سے بچیاں باپ سے ڈری سہمی رہتی ہیں اور باپ کو ظالم سمجھتی ہیں۔ یہ طرز عمل بالکل غلط ہے، کیوں کہ اس سے بچیوں کے دل میں باپ سے متعلق صرف خوف کا احساس پیدا ہوتا ہے، احترام نہیں لہٰذا اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ باپ کو بھی یہ چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ سخت  رویہ نہ رکھے، کیوں کہ وہ بیٹیوں کے لیے آئیڈیل ہوتا ہے۔ سختی کے بجائے نرمی کا رویہ زیادہ موثر اور دیرپا ہوتا ہے جو بیٹیوں کے ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑ جاتا ہے۔

لیکن ہماری سب سے بڑی بد قسمتی یہ  ہے کہ جس گھر میں بھی بیٹی پیدا ہو، وہاں افسوس کیا جاتا ہے اور لڑکیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے عام طور پر ایک باپ کے لیے بیٹی کا تصور ہی بوجھ اور زحمت کا بنا دیا گیا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ  بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں اور وہ ماں باپ کی غم گسار بھی ہوتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس منفی اور زمانۂ جہالت کی سوچ کو بدلا جائے اور بیٹی کو زحمت کے بجائے رحمت سمجھا جائے اور بیٹیو ں کے باپ کو برا نہ سمجھا جائے، کیوں کہ یہ رشتہ اللہ نے بنایا ہے اور ہمیں بھی اس کی رضا میں راضی ہوجانا چاہیے۔

 

بشکریہ ایکسپریس نیوز
https://www.express.pk/story/1175876/1