شام میں سویرا کب ہوگا؟ (حافظ رازی کھوکھر)

http://mouj.pk/product/heamo-tablet/






انسان صرف اعضاء کا نام نہیں ہے۔آنکھ،کان،ناک،منہ،سر،پیر تو جانوروں کے بھی ہوتے ہیں۔جانوروں کے تو بین الاقوامی حقوق بھی ہوتے ہیں۔جانوروں کے حقوق کی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔اس کے لئے کروڑوں ڈالر،ریال،پونڈ اور درہم بھی بٹورے جاتے ہیں۔لیکن اس کے برعکس انسانو ںکو مارنے کے لئے یہ جانور نُما انسان یا انسان نُما جانور بین الاقوامی اتحاد بنائے پھرتے ہیں۔ترقی یافتہ کہلانے والے اخلاق باختہ ہو چکے ہیں۔تباہی و بربادی کے لئے نئی نئی ایجادات کی جا رہی ہیں۔ا ن ہتھیاروں کو آزمانے کے لئے نہتے اور معصوم مسلمان بچوں کو ساری دنیا میں تختہء مشق بنایا جارہا ہے۔اس ظلم و ستم کے ماحول میںکعبہ کی کمائی سے عیش ونشاط حاصل کرنے والے خواتین کی پہلی میرا تھن ریس کروا کر اسلام کا نجانے کونسا سوفٹ امیج دنیا کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں کہ جس کی آڑ میں کعبہ سے نکالے جانے والے بت نجدومضافات میں دوبارہ ایستادہ کئے جا رہے ہیں۔ اس پر فخر کیا جارہا ہے کہ یہ عالمِ عرب کا سب سے بڑا بت خانہ ہے ۔جس کا افتتاح نام نہاد مسلمان ـحکمرانـ’’ جے سری رام‘‘(نقلِ کفر کفر نباشد) کے الفاظ سے کرتا ہے۔یہ توابوجہل،
ا بولہب اور یزید کو بھی شرمسار کرگئے۔یزید کی طرح شائد ان کا بھی یہی نعرہ ہو کہ دیکھو ہم نے مسلمانوں سے بدر وحنین اور فتح مکہ کا بدلہ لے لیا ہے۔ا ب دنیا انتظار کرے کہ یہ گائے کا مُوت پی کر کب اپنے کاروباری شریک انڈین ہندؤوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں،شرابیں پی کر یہودونصاریٰ کے ساتھ اظہارِ محبت تو اکثر محافل میں وہ کرتے ہی رہتے ہیں جام سے جام ٹکراتے تو سوشل میڈیابھی انہیں دکھاتا رہتا ہے۔ایک طرف شام میں بے گناہ مسلمان عورتیں کارپٹ بمباری کا نشانہ بن رہی ہیں اور دوسری طرف سعودی عرب میں عورتوں کے فیشن شو منعقد کئے جارہے ہیں۔شام کے مشرقی الغوطہ میں مسلمان بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے اور مسلمان امراء پی ایس ایل (PSL) سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔غوطہ لاشوں سے غلطاں پڑا ہے۔صرف 10 فی صد علاقہ کے کنٹرول کے حصول کے لئے ایک دن میں 600 لاشیں گرائی گئیں۔بموں کی برسات کی گئی۔سابق صدر عراق سید صدام حسین شہید رحمتہ اللہ علیہ پر تو صرف الزامات لگائے گئے کیمیکل ہتھیاروں کے اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔لیکن اب تو سارے ثبوت موجود ہیں اب مہذب دنیا شامی اتحادی افواج کے خلاف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا نوٹس کیوں نہیں لیتی؟سڑکوں پر عورتوں ،مردوں اور معصوم بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں بکھری پڑی ہیں جن کا کوئی والی وارث نہیں۔بیگناہ عام شہریوں کا قتلِ عام کیا جارہا ہے۔ جس کا روکنے والا کوئی نہیں۔عالمی ادارے گونگے شیطان کا روپ دھارے ہوئے ہیں ۔امتِ مسلمہ کا کوئی متفقہ راہنما نہیں۔حرمین شریفین سے بھی کوئی آواز نہیں اٹھ رہی۔اقوامِ متحدہ بین الاقوامی دہشت گردوں کی آلہ کار بنی ہوئی ہے۔معصوم بچوں کی چیخ و پکار سے قیامت کا سما بندھا ہوا ہے۔ یہ مسئلہ گزشتہ چار سال سے بگڑا ہوا ہے۔عرب سپرنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ کسی کے بھی قابو میں نہیں رہا۔ یہ سر زمیں عیسائیوں ،یہودیوں اور مسلمانوں کے لئے یروشلم کی طرح یکساں محترم ہے۔یہاں انبیاء کا پڑاؤ رہا ہے۔اسے مختلف تہزیبوں کے ملاپ کی حیثیت حاصل ہے۔ 82 فیصد آبادی کا مسلمان ہونا ہی اس کا قصور بن گیا ہے۔اس کے حمیدیہ بازار میں شہدائے کربلا کے سر ہائے نازنیں پھرائے گئے اور اموی مسجد میں یزید کے دربار میں لائے گئے۔یہاں ’’ راس حسین‘‘ کی یادگار ہے
یہاں حضرتِ یحی ٰ علیہ السلام کا روضہ مبارک بھی ہے۔داعش کا اور باغیوں کا بہانہ بنا کر اسے کس مقصد کے لئے اجاڑا جا رہا ہے یہ کسی صورت بھی واضح نہیں ہو رہا۔کیونکہ شام اور دمشق کسی بھی لحاظ سے کسی بھی بین الاقوامی کاروبار میں رکاوٹ نہیں۔اس کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے کہ کچھ کیمیکل ہتھیاروں کی طاقت کا اندازہ لگایا گیا ہے۔وگرنہ بشارالاسد کے خلاف اٹھنے والی تحریک تو صرف بد امنی اور مہنگائی کے خلاف تحریک تھی جوخالصتاً ایک مقامی تحریک تھی اور اس کا کوئی بین الاقوامی ایجنڈہ بھی نہیں تھا پھر یہ کئی سالوں پر محیط خانہ جنگی اور سرکاری دہشت گردی امت مسلمہ کی بے حسی کا نتیجہ ہے ۔ 40 ممالک کی اسلامی فوج شائد خواتین کی میراتھن ریس منعقد کرنے کے لئے تشکیل دی گئی تھی۔پاکستان کے ایٹم بم کو ساری دنیا نے اسلامی بم کا نام دیا تھا عرب اسلامی ممالک میں جشن منائے گئے تھے۔اس کی میزائل ٹیکنالوجی ساری دنیا کی مانی ہوئی ٹیکنالو جی ہے۔اگرچہ یہ اول پاکستان کے اپنے تحفظ کے لئے ڈیٹرنس کا درجہ رکھتی ہے لیکن اکلاقی طور پر یہ طاقت امتِ مسلمہ کے وقار کو بلند رکھنے کے بھی کام آنا چاہئے۔اس کا رعب پورے عالم میں دہشت گردوں پر ہونا چاہئے وگرنہ تو پھر اس کے اوپر کئے جانے والے اخراجات یا ان کی آڑ میں کئے جانے والے اخراجات سوائے ایک لایعنی فضول خرچی کے کوئی وقعت نہیں رکھتے،یہی وجہ ہے کہ روس دنیا کی سب سے بڑی ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود دنیا سے مٹ گیا،کیونکہ اس نے اپنی اس طاقت کو اپنی اخلاقی ذمہ دار کے طور پر نہیں اپنایا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم ہو گا وہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوگا۔آج پھر روس وہی غلطی کر رہا ہے کہ وہ مظلوم کی بجائے ظالم کی مدد کر رہا ہے۔وہی غلطی پاکستانی حکومت بھی کر رہی ہے کہ پہلی اسلامی ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اپنا پلڑا مظلوموں کے حق میں نہیں جھکاتی۔کم از کم اسلامی دنیا میں ہی شام کے لئے آواز بلند کرے اور جنگ بندی میں اپنا کردار ادا کرے،اس موضوع پر بین الاقوامی فورمز پر بحث کا ڈول تو ڈالے۔اسلامی دنیا میں ہمیں اپنا تشخص پیدا کرنا چاہئے۔تاکہ امت مسلمہ کے کانوں پر جوں تو رینگ سکے جو بے ہوش پڑی ہوئی ہے۔اس سلسلہ میں ترکی کو اعتماد میں لیا جاسکتا ہے۔بابا جی فرمایا کرتے تھے بیلیو اسلام کی اصل شکل پاکستان اور ترکی میں ہی پائی جاتی ہے کیونکہ اسلام میں بنیادی اکائی ایمان ہے اور ایمان میں ترکی اور پاکستان دنیا بھر میں سب سے آگے ہی،جہاں سے میرِ عرب کو ٹھنڈی ہوا آتی رہی ہے ۔آج بھی آرہی ہے اور قیامت تک آتی رہے گی۔
ا ب وقت ہے پاکستا ن کو عالم ِ اسلام کی قیادت کرنی چاہئے۔
لوئے لوئے بھر لے کڑئیے جے تُدھ پانڈا بھرنا،،،،،،،شام پئی بن شام محمد ،گھر جاندی نے ڈرنا






Previous articleاب ہو گا احتساب۔۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کو بڑی خوشخبری سنا دی گئی
Next articleسینٹ الیکشن میں آئین کی دھجیاں اڑائی گئیں، ہم عام آدمی کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیں گے:افتخار محمد چوہدری