پھولوں اور پھلوں سے بھرا درخت (نذیر ناجی)

http://mouj.pk/product/heamo-tablet/






لاہور کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں‘ چودھری شجاعت حسین کی یادداشتوں پر مبنی کتاب”سچ تو یہ ہے‘‘ کی تقریب رونمائی ہوئی۔ یہ کتاب نہ تو بہت ضخیم ہے اور نہ ہی مختصر ۔ پاکستانی سیاست میں چودھری ظہور الٰہی صاحب سے لے کرموجودہ نسل تک‘ سب کا سیاست میں ایک مشترکہ کردار ہے۔ چودھری ظہور الٰہی کی سیاسی زندگی کوان کے جانشینوں سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان سب کی زندگی‘ خاندانی اثاثہ ہے۔ اس وقت چودھری مونس الٰہی‘ اپنے خاندان کی اسی روایت کو‘ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھ رہا ہے۔میں نے اسی خاندان کے رنگ برنگے پھولوں‘ باہمی اوراجتماعی رشتوںکا ذکر کیا ہے‘ جس میں رنگوں سے رنگ‘ امنگوں سے امنگیں‘ دعائوں سے دعائیں‘خیر سے خیر‘ لہر در لہر محبتیں‘ نسل درنسل زندگی کو بڑھاتے اور پھیلاتے رہے۔ ”25ستمبر1981ء کی وہ دوپہر ‘ میں کبھی نہیں بھلا سکوں گا‘ جب گلبرگ میں اپنے ایک دوست کے گھر بیٹھا گپ شپ میں مصروف تھا کہ اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ بتایا گیا کہ میرے والد محترم‘ چودھری ظہور الٰہی کی گاڑی پر‘ ماڈل ٹائون موڑ کے قریب‘ کسی اسلحہ بردار نے حملہ کر دیا ہے اور وہ شدید زخمی ہو گئے ہیں۔میں شدید پریشانی کے عالم میں گھر پہنچا۔ والد صاحب کے سارے دوست و احباب جمع تھے۔ ایک کمرے کے اندر میرے تایا جان‘ چودھری منظور الٰہی خاموش بیٹھے تھے۔ میں نے والد صاحب کی خیریت دریافت کی تو ان کے منہ سے چیخ نکل گئی اوروہ میرے گلے لگ گئے۔ میں سمجھ گیا کہ والد صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے اور وہ ہمیں ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ایک قیامت تھی جو گزر چکی تھی۔چودھری پرویز الٰہی ان دنوں لندن میں تھے۔ انہیں وہاں اطلاع دی جا چکی تھی۔ معلوم ہوا کہ وہ پہلی دستیاب پرواز سے پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ والد صاحب پر حملہ کرنے والے شخص رزاق عرف جھرنا کو بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس نے اعتراف کر لیا کہ اس کا تعلق دہشت گرد تنظیم” الذوالفقار‘‘ سے ہے اور اس کی تربیت کابل میں ہوئی ہے۔ میری والدہ نے کہا کہ پتا تو کریں کہ پولیس نے واقعی اصلی قاتل کو گرفتار کیا ہے؟ یا خانہ پری کے لئے کسی بے گناہ کو پکڑ لیا ہے؟ بی بی جی کے حکم پر چودھری پرویز الٰہی‘ وسیم سجاد کے بھائی آصف سجاد جان‘( جو ایک ہونہار وکیل تھے۔ بعد میں اچانک ایک ٹریفک حادثے میں دنیا سے رخصت ہو گئے) راجہ منور اور ایم اے رحمن ایڈووکیٹ کے ہمراہ خود تھانے پہنچے۔ اس نوجوان سے ملے اور پوچھا کہ اگر تم قاتل نہیںہو تو بتا دو۔ہم تمہیں رہا کروا دیں گے۔ نوجوان بڑے اعتماد سے بولا۔ میں نے اپنا کام کر دیا ہے مگر مجھے پھانسی نہیں ہو گی۔ میرے لوگ مجھے رہا کروا لیں گے۔ معلوم ہوا کہ نوجوان کی مکمل برین واشنگ کی گئی ہے۔ مقدمہ شروع ہوا اور ایک روز ہمیں خبر ملی کہ نوجوان کو سزائے موت سنا دی گئی ہے‘ جس پر کچھ عرصہ بعد عملدرآمد بھی ہو گیا۔ یہاں یہ ذکر کرنا بے محل نہ ہو گا کہ حادثہ سے تین روز قبل‘ میرے والد نے راجہ ظفر الحق کو‘ جو ان کے قریبی دوست تھے‘ بتایا کہ مجھے مصدقہ اطلاع ملی ہے کہ ”الذوالفقار‘‘ نے مجھے قتل کرنے کی سازش تیار کر لی ہے لیکن زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ مجھے کوئی خوف نہیں۔ میرے والد آخری وقت تک اپنی اس بات پر قائم رہے۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب ان پر حملہ ہوا تو اس وقت بھی‘ ان کے ساتھ گاڑی میں کوئی سکیورٹی گارڈ نہیں تھا اور نہ ہی کوئی حفاظتی دستہ پیچھے یا آگے چل رہا تھا۔ وہ اس روز ڈرائیور کے ساتھ اگلی نشست پر بیٹھے تھے حالانکہ وہ ہمیشہ اپنی گاڑی(مرسڈیز) میں پچھلی نشست پر بیٹھا کرتے تھے۔ وہ اپنے قریبی دوست انٹر ہوم کے مالک‘ امین صاحب کے گھر سے ماڈل ٹائون کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ سابق چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین اور ایم اے رحمن ایڈووکیٹ ان کے ہمراہ تھے۔ وہ مولوی مشتاق حسین کو ڈراپ کرنے کے لئے ان کے گھر جا رہے تھے۔ احتراماً ان دونوں حضرات کو پچھلی نشست پر بٹھا کر خود آگے بیٹھ گئے۔ حملہ آور نے ڈرائیور کی طرف فائر کیا‘ جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے گاڑی پر گرینیڈ پھینکا‘ جس سے اگلی نشست پر بیٹھے ہوئے میرے والد شدید زخمی ہو گئے۔ ہسپتال پہنچنے تک ان کی شہادت ہو چکی تھی۔ پچھلی نشست پر بیٹھے مولوی صاحب معمولی زخمی ہوئے جبکہ ایم اے رحمن بالکل محفوظ رہے۔میرے والد چودھری ظہور الٰہی شہید ‘ پاکستان میں دہشت گردی سے شہید ہونے والے پہلے سیاست دان ہیں۔ والد صاحب کے ساتھ جاں بحق ہونے والے ڈرائیور محمد نسیم کی بڑی خواہش تھی کہ اس کا بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔ہم نے اس کی یہ خواہش اس طرح پوری کی کہ اس کے بیٹے کو برن ہال ایبٹ آباد جیسے بہترین ادارے میں تعلیم دلائی۔ گرایجویشن کرنے کے بعد اب وہ باعزت طریقے سے اپنا روزگار کما رہا ہے۔
والد صاحب کی شہادت کے بعد میرے تایا جان‘ چودھری منظور الٰہی نے جس محبت‘ شفقت اورتدبر کے ساتھ خاندان کی سرپرستی اور رہنمائی کی‘ یہاں اس کا ذکر کئے بغیر بات ادھوری رہے گی۔ انہوں نے سیاست اور کاروبار دونوں محاذوں کو تن تنہا سنبھالا۔ اپنی محنت اور لیاقت سے خود پیچھے رہ کر خاندان کو‘ اس طرح آگے بڑھایا کہ اس کو مزید کامیابیوں سے ہمکنار کر دیا۔ ان کی زندگی میں ہی‘ میں اور چودھری پرویز الٰہی سیاست اور حکومت میں بلند ترین عہدوں پر پہنچے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ یہ انہی کی سرپرستی اور رہنمائی کا فیضان تھا۔ انہوں نے کبھی اپنی اور اپنے شہید بھائی کی اولاد میں فرق نہیں کیا بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ انہوں نے اپنے بچوں سے بھی بڑھ کر ہمیں پیار دیا۔ بہر حال والد صاحب کی شہادت کے بعد میرے لئے سب کچھ ہی بدل گیا اور مجھے عملی سیاست میں آنا پڑا۔عملی سیاست کے ہر موڑ پر میرے لئے میرے والد کا کردار مشعل راہ رہا ہے۔ ان کے اصول سیاست ہر موڑ پر میری رہنمائی کرتے رہے ہیں۔ ان کا ایمان تھا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ان کا یہ پختہ ایمان‘ میری زندگی کے سفر میں چراغ راہ کا کام دیتا رہا ہے۔ ان کی تقلید میں‘ میں نے بھی اپنی زندگی میں کلمہ حق کی سربلندی اور مخلوق خدا کی خدمت کو اپنا نصب العین بنایا ہے۔ میں اس میں کس حد تک کامیاب ہو ا ہوں‘ اس کا حتمی فیصلہ بہر حال مجھے نہیں‘ عوام نے کرنا ہے۔ لہٰذا میں اپنی زندگی اور اسکے نشیب و فراز کی کہانی جو پچھلے ستر سال پر پھیلی ہوئی ہے‘ آج اپنے عوام کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ یہ کہانی دریائے چناب کے کنارے گجرات کے ایک چھوٹے سے گائوں”نت وڑائچ‘‘ سے شروع ہوتی ہے‘‘۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)






Previous articleتیسرا ووٹ (عبدالقادر حسن)
Next articleقیادت یکسوئی کا نام ہے(ہارون الرشید)