خوش فہمی اور خود ستائشی

خوش فہمی اور خود ستائشی
http://mouj.pk/product/heamo-tablet/





مجھے کیوں نکالا، دیکھا ملک انتشار کا شکار ہو گیا، معیشت گر گئی، دہشت گردی بڑھ گئی امریکہ بگڑ گیا دشمن دلیر ہو گئے، دوست ناراض ہو گئے، پورا ملک میری آواز کے ساتھ ہے، مجھے کیوں نکالا دیکھا اب کچھ بھی ٹھیک نہیں رہا…. خوش فہمی لاعلاج مرض ہے۔ نیب کورٹس میں بارہویں پیشی 35سالہ حکمرانی کا نشہ اتار دیتی ہے۔ عدلیہ کے خلاف مہم تو سمجھ میں آتی ہے۔ عدالتوں کی پیشیاں بھگتنا عوام کا نصیب ہے۔ خواص کہاں پھنس گئے؟ ان خواص کو پیشی پر بلانے والوں کے خلاف جہاد تو بنتا ہے۔ خوش فہمی اور خود ستائشی تشویش ناک امراض ہیں۔ایک تالاب میں بہت سے مینڈک رہتے تھے۔ ہر کوئی کسی نہ کسی کام میں ایکسپرٹ تھا۔ ان میں سے ایک کو خود پہ بہت غرور تھا کہ اگر وہ ا±ن سب کے درمیان نہ ہو، اندھیری رات میں اپنی بلند آواز سے سب کو گانے نہ سنائے تو رات گزارنا مشکل ہو۔لیکن کوئی اس کی قدر نہیں کرتا تھا۔ وہ کہتا دیکھنا میں یہاں سے چلا جاو¿ں گا تو تم سب مجھے یاد کرو گے میرے بغیر تم سب کچھ نہیں۔ ایک دن جب بارش ہو رہی تھی وہ پھدکتا ہوا خود کو دیکھ کے خوش ہوتا رہا کہ کتنا اچھا ڈانس کرتا ہوں سب مجھ سے جلتے ہیں۔ خوشی میں جھومتا وہ راستہ بھٹک گیا۔ ایک جگہ بارش کا پانی جمع دیکھ کر وہاں رکا کہ شائد رہنے کی جگہ مل جائے لیکن شریر بچّوں نے اتنے پتھر مارے کہ بیچارہ گھبرا کے بھاگا۔ وہ بہت پریشان تھا اپنے ساتھیوں کے پاس جانے کے لئے لیکن ہر راستہ نامعلوم سمت جا نکلتا تھا۔ اس کا خیال تھا سب اس کو تلاش کر رہے ہونگے لیکن یہ اس کی خوش فہمی تھی۔ دوسری طرف اس تالاب کے مینڈک اپنے ساتھی کو اپنے درمیان نہ دیکھ کر بہت خوش تھے۔ وہ سب اس کی یہ بات س±ن س±ن کر تنگ آ چکے تھے کہ اس کے بغیر زندگی نامکمل اور بیکار ہے وہ ہے تو سب کچھ ہے۔ وہ سب اس کے بغیر اب بھی مکمل تھے لیکن اس خوش فہم کی سوچ اب بھی وہی تھی۔خوش فہمی اور خود ستائشی نفسیاتی مرض ہے اس کا علاج ضروری ہے تاکہ ایسا شخص صحیح سمت سوچنے سمجھنے کے قابل ہوسکے اور دوسروں کی زندگی عذاب نہ ہو…. “انسان کو اپنی خوش فہمی کا مینار اتنا اونچا اور وزنی نہیں کھڑا کرنا چاہئے کہ جب وہ گرے تو اسکی ذات کو بھی دفن کر دے”۔ کیا خوش فہمی ہے کہ ملک میرے دم سے قائم ہے۔ میں نہیں تو کچھ نہیں۔ میرے بغیر ملک انتشار کا شکار ہو جائے گا معیشت تباہ ہو جائے گی۔ میں ہوں تو ملک ہے۔ اگر میں نہیں تو میں کچھ نہیں چھوڑوں گا۔ حکمرانی کا نشہ جب ٹوٹتا ہے تو آنکھوں کے سامنے اندھیرے چھانے لگتے ہیں۔ خوش فہمی کا مینار جب زمین بوس ہونے لگتا ہے، زبان ہکلانے لگتی ہے۔ جب سے دنیا بنی ہے بڑے بڑے سلطان بادشاہ حکمران نمرود فرعون آئے اور اپنی خوش فہمی و خود ستائشی کے سمندر میں غرق ہو گئے۔ ستر سال سے پاکستان نے کئی حاکم آتے جاتے دیکھے۔ ہر کسی نے یہی کہا کہ میں نہیں تو ملک بھی نہیں۔ سازش کے تحت انتشار پھیلایا جاتا ہے۔ بگاڑ کیا جاتا ہے تاکہ عوام کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ فلاں کے ہونے سے ملک بہتر تھا اب اس کے جانے سے ملک کا ستیا ناس ہو رہا ہے۔ کسی کے آنے جانے سے نہ دنیا ختم ہو گی نہ ملک کا کوئی بیڑہ غرق کر سکا۔ ایک اور خوش فہم نجومی کے پاس گیا تو نجومی نے کہا تمہاری زندگی میں ایک حسین دوشیزہ داخل ہونےوالی ہے۔ اس نے پوچھا کب کہاں؟ نجومی نے کہا میڈیکل کالج کی سائنس لیبارٹری میں…. خوش فہمی کی چھری ایک روز مینڈک کو چیر پھاڑ دیتی ہے۔
بشکریہ روزنامہ نوائ ے وقت۔۔۔
٭٭٭٭٭




Previous articleموٹروے پولیس کے انسپکٹر نے نہر میں کود کر لڑکی کو بچا لیا