یہ نوٹس نوٹس کا دھندہ۔۔۔کالم(ڈاکٹر انصر فاروق)

یہ نوٹس نوٹس کا دھندہ۔۔۔کالم(ڈاکٹر انصر فاروق)
http://mouj.pk/product/heamo-tablet/





معصوم زینب ایک سفاک بھیڑئیے کی درندگی اور وحشت کا نشانہ بن گئی۔ آپ میرا یہ کالم جس وقت پڑھ رہے ہوں۔ نہ جانے اس وقت تک کیا کیا ہوچکا ہوگا۔ ہوگا بھی کہ نہیں ۔ کتنے نوٹس ، نوٹس ، نوٹس کے کھیل کھیلے جائیں گے۔ نہ جانے کون کون اس معصوم کلی کے والدین کی بے بسی کا فائدہ اُٹھائے گا۔ نہ جانے کون کون ان کو محض سیاسی دلاسہ دے گا۔نہ جانے کون کون ان کے زخم پر مرہم رکھنے کی بجائے ۔ ان کے زخموں پر نمک پاشی کرے گا۔ مگر کیا ان کے دل کا درد بھی کوئی جان پائے گا۔ کیا ان کے دکھوں کا مداوا بھی کوئی کرے گا۔ کیا معصوم ننھی زینب کا کیا جرم تھا ۔ اس کی وضاحت بھی کوئی کرے گا۔ اس درندے اور اس سمیت اس ملک اس معاشرے میں پھیلے لاکھوں سفاک درندوں کو پکڑے کر سرعام چوک چوراہے میں بھی کوئی لٹکائے گا۔ کہ آئندہ ایسی حرکت کرنے والا پہلے سوچے گامیرا انجام کیا ہوگا۔کیا جرم تھا اس معصوم کا ۔ کیا بگاڑا تھا اس نے کسی کا۔ اس ننھی معصوم بے ضرر کلی سے کسی کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے۔ ارے وہ تو اللہ سے باتیں کرنے کے لئے جا رہی تھی۔ اللہ کے قرآن کی تلاوت کرنے ۔ مگر نہ اس کو پتہ تھا ۔ نہ اس کی خالہ کی آج اس کے گھر سے قرآن کی تعلیم حاصل کرنے جانے والی زینب پھر لوٹ کے نہیں آئے گی۔ اللہ کے گھر حاضری لگوانے گئے اس کے والدین جو وہاں اپنی بیٹی اپنی رحمت کی لمبی زندگی ۔ اس کے نیک ہونے اور اس نصیب اچھے ہونے کی دُعائیں اللہ کے حضور گڑ گڑا کر کر رہے تھے ۔ ان کو کیا پتہ تھا کہ ان کی زینب کی بدبخت سفاک درندے شیطان کے چیلے ہوس کے بچاری کی سفاکیت کا نشانہ بن چکی ہے۔ میں کیا لکھوں اور کیسے لکھوں کیوں کی میرا دل خون کے آنسو رورہا ہے۔ کہ میری ایک اور بیٹی زینب ایک ہوس پرست حرامی کی ہوس کا نشانہ بن گئی ۔اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جب بھی کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے ۔ نام نہاد جمہوری حکومت کی طرف سے اس کا فوری نوٹس لے لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کمیٹی ڈال دی جاتی ہے ۔ جس کو جدید دورکے جمہوری نظام میں جے آئی ٹی کہتے ہیں۔ جس میں اپنے من پسند جمہوریت پسند مجرموں ڈاکوئو ں اور لیٹروں کے تحفظ دینے کے لئے بظاہر معزز مگر حقیقت میں ایسے لوگوں کا مہان گرو کے ہاتھ میں کمیٹی نکالنے کا فیصلہ دے دیا جاتا ہے۔ جو کہ ہمیشہ ان درندوں کے حق مین نکلتی ہے۔ درندگی کا نشانہ بننے والے کے والدین کو ڈرا دھمکا کر راضی نامے پر راضی کر لیا جاتا ہے۔اور اگر کسی طرح اس ڈالی گئی کمیٹی کے ممبران کے ضمیرزندہ ہو جائیں۔اور وہ حق اور سچ کا فیصلہ کردیں ۔ تو اس کو سامنے ہی نہیں آنے دیا جاتا ۔ آج پھر ایک درندے کے ہاتھوں ایک بچی اپنی عزت اور زندگی ہار گئی …دل پھٹ کر رہ گیا ہے اس خبر کیساتھ
آئیے خدا کوجواب دینے والے دن اور گھڑی سے پہلے ہم اپنا سینہ پیٹ لیں ۔جہاں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوس پرست حرامی جب چاہیں ،جسکی چاہیں بچہ بچی اٹھا لے جائیں ،اسے برباد کر دیں اور کچرے کے ڈھیر یا نالے میں پھینک جائیں ۔اور تب بھی ہم مسلمان ہی کہلائیں ۔ باشعور ،باضمیر اور جمہوری حکومت کے باعزت شہری کہلائیں۔
ہر روز عورتوں اور بچیوں بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات قصور میں یہ 12 واںواقعہ ہے۔ اگر کسی ایک درندے کو بھی سزائے موت سر عام چوک میں دی گئی ہوتی تو کم از کم کوئی درندہ اپنی درندگی کا نشانہ کسی معصوم کلی کو نہ بناتا۔مگرکسی ایک بھی ہوس پرست کو سزائے موت نہیں ہوئی۔حکومت پاکستان کہاں مر گئی ہے ؟ کیا قیامت بہ پا کیا جانے کا انتظار ہے ؟اے وقت کے حکمرانوں نام نہاد جمہوریت اور گڈ گورننس کے ٹھیکیدارو۔ ذراہر اس ماں اور باپ سے پوچھو جس کا بچہ یا بچی کئی روز لاپتہ رہتے ہیں اور پھر ان کا معصوم جسم کسی ہوس گیر کے دو چار منٹ کے گندگی نکال کر اسے ٹشو پیپر کے طرح مسل کر کچرے کے ڈھیر ہر پھینک جاتا ہے.ان معصوم کلیوں کو مسلنے کے بعد بھی جو درندے دندناتے پھرتے ہیں۔ کہاں ہیں یہ شہوت پرست حرامی گدھ جو اپنا غلیظ شوق لئے گلی گلی، نکڑ نکڑ، کونے کونے میں معصوم کلیوں اور عورتیں شکار کرنے کو نظریں گاڑے بیٹھے ہوتے ہیں .
کیوں یہ پولس کے ہتھے نہیں چڑھتے ؟کیوں اور کیسے یہ عدالتوں سے سزائے موت نہیں پاتے ؟ کیوں ان وارداتوں پر سوو موٹو ایکشن نہیں لیتا کوئی جج؟
کیا جب تک خدانخواستہ کسی جرنیل اور کرنل کی بچی کا معصوم جسم نوچ کر، زیادتی کر کے، توڑ موڑ کر کسی کچرے کے ڈھیر پر نہیں مل جاتا تب تک کوئی پاکستانی قانون عمل میں نہیں آئے گا کیا؟انصاف کب ہو گا ؟کیا قیامت کے دن کا ہی انتظار کریں جب یہ بچیاں قبر سے یہ تمہارے ہمارے گریبان پکڑے یہ کہہ کر اٹھائی جائینگی کہ بتاؤ ہمیں کس جرم میں مارا گیا ؟
کس جرم میں روندا گیا ؟سب پاکستانیو۔۔۔ مل کر ان ہوس پرستوں کے خلاف تحریک چلاؤ اگر تم مسلمان ہو؟ کیا قانون ہے ۔ پہلے تو قانون ہے ہی کہاں ۔ اور کدھر۔۔؟؟؟آئے روز ملک بھر میں معصوم بچوں اور بچیوں کو اغواء ۔ اور اس کے بعد اس کی لاش کسی نالے،کسی کچرے کے ڈھیر سے ملتی ہے۔ اور درندگی کا مظاہرے کرنے والے کسی سیاسی وڈیرے اور جمہوریت کے دعوے دار اور ٹھیکیدار کی چھتر چھائوں میں پنا ہ لے کر بری ہوجاتا ہے۔ بلکہ اس کو لائسنس مل جاتا ہے کہ یہ درندہ جتنی بھی سفاکیت کرے ۔اس کو ہاتھ نہیں لگانا کیوں کہ یہ سیاسی وڈیرے کی چھتر چھائوں میں ہے۔لگ ابھی بھی کچھ ایسا ہی رہا ہے۔ کہ کچھ نہیں ہوگا۔ ار ے لعنت ہے ایسی جمہوریت پر جس میں کسی غیرب کی عزت محفوظ نہ ہو۔ ہر روز ہوس پرست حرامی گدھ حوا کی بیٹیوں اور معصوم بچیوں کی کو اپنی ہوس اور درندگی کا نشانہ بنائیں ۔ اور جمہوریت کے نام نہاد ٹھیکیدار امن و سکون کی بانسری بجاتے ہوئے ۔ اس کو روٹین کی کاروائی ۔ اور واقعہ قرار دے ۔ نوٹس لیں اور اپنی جان چھڑا لیں۔ایسا لگتا ہے کہ ان کو اللہ اور اس کا رسول یاد نہیں ۔ نہ ان حضرت فاطمہ اور حضرت زینب یاد ہیں۔ اور ان کو یہ بھی یاد نہیں کہ بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتیں ہیں ۔ کیونکہ کہ اگر ان کو یہ یاد ہو تو یہ کسی کی بیٹی کو کسی کی بیٹی نہ سمجھیں اپنی بیٹی سمجھیں۔ مگر نہیں ایسا نہیں کریں گے۔ یہ صرف فوٹو سیشن کروائیں گے ۔ غم کے ماروں کے زخم پر نمک چھڑ کیں گے۔ اور ایک نوٹس لے کر ان کو مرنے کے لئے چھوڑ دیں گے۔ نام نہاد جمہوریت والوں کے لئے ایک آمر کے دور کا واقعہ دہرانا چاہتا ہوں ۔ مجھے پتہ ہے کہ اس کا اثر ان پر نہیں ہوگا۔ کیونکہ اگر یہ ایسا کریں گے تو ان کی نام نہاد جمہوریت ڈی رلیل ہو جائے گی۔1981 ء میں لاہور باغبانپورتھانے کی حدود پپو نامی بچہ اغواء ہواتھا۔ بعد میں جس کی لاش ریلوے کے تالاب سے ملی تھی۔ یہ دور حکومت ضیاء الحق کے مارشل لاء کا تھا۔ ملزمان گرفتار ہوئے ۔ اور فوجی عدالت سے ان قاتلوں کو پھانسی لگانے کا حکم جاری ہوا تھا۔ اور ان کو پھانسی پر اس جگہ لٹکایا گیا تھا۔ جہاں پر آجکل بیگم پورہ والی سبزی منڈی ہے۔ پورے لاہور نے یہ منظر دیکھا تھا کہ پھانسی کیسے لگتی ہے۔ چاروں اغواء کار قاتل سار ادن پھانسی پر لٹکتے رہے ۔ حکم یہ تھا کہ ان کی لاشیں مغرب کے بعد اُتاری جائیں۔ اس واقعہ کے دس سال بعد تک کوئی بچہ اغواء اور قتل نہیں ہوا۔اس کے بعد جمہوریت بحال ہوگئی۔ اور عصمتوں کے لیٹرے ، قاتل ،اغواء کار ، بردہی فروش، چور اور ڈکیت سیاستدانوں کی چھتر چھائوں کے نیچے آگئے۔ اور پولیس کی سر پرستی میں منظم جرائم ہونے لگے۔اور آج میں ٹی وی کے سامنے بیٹھا رونے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ اور میرے ملک کا حاکم اس قیامت صغری کے بپا ہونے کے باوجود ٹس ست مس نہ ہوا۔ نہ اس شہر کا کوئی وڈیرا ۔ نہ وزیر ۔ نہ بادشاہ نہ مشیر ۔ میں ورطہ حیرت ہوںکہ اتنے واقعات بیت جانے کے بعد بھی صرف نوٹس لے کر کمیٹی ڈال دی گئی۔ مگر میں دعوی سے کہتا ہوں کہ یہ نام نہاد جمہوریت کے ٹھیکیدا ر اس معصوم مجرم زینب کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں نہ پہنچائیں۔ مگر اللہ کے راستے میں نکلے اس کے والدین کی دعائیں ۔ اور اللہ کی کتاب کی آیات بینات کی تلاوت کرنے کی تعلیم حاصل کرنے جانے والی میری اس معصوم زینب کی آئیں ۔اور ترلے اور سسکیاںاور واسطے۔ جنہوں نے اس عرش کو بھی ہلا دیا ہوگا۔ انشاء وہ انصاف کرے گا اور ایسا عبرت ناک انجام ہوگا اس لعنتی ۔ خبیث درندے کا کہ دنیا دیکھے گی۔ اے میرے اللہ اس میری بیٹی معصوم زینب تیر اور تیر ے حبیب کے واسطے اپنی ننھی زباں سے دئیے ہوںگا۔ جس کرب سے وہ میری بیٹی گزری ہوگی۔ جس تکلیف اور بے یاری مدد گاری میں اس نے تجھے پکارا ہوگا۔ اپنے بابا اپنی امی کو پکارا ہواگا۔ میں تجھے ان سب کا واسطہ دیتا ہوں کہ اس میرے معصوم بیٹی زینب کے سفاک قاتل اور اس میں ملوث تمام کرداروں کو اپنے حبیب کے صدقے ان پر ایسا عبرت ناک عذاب نازل فرما کہ آئندہ کوئی تیری رحمت کو اس طرح درندگی کا نشانہ بنانے کی جرت نہ کرے۔ اور اے اسلامی جمہوریہ کے لوگ کچھ تم بھی سوچو۔ جن کی زینب ۔ مریم ۔ فاطمہ ۔ سکینہ ۔ بتول مر گئی ہے وہ صبر کریں۔ اور جنکی کی ابھی باری نہیں آئی وہ انتظار کریں ۔ یا بے حسی چھوڑ دیں اور ایسے مجرموں کی پشت پناہی کرنے والوں اور مجرموں کو ان کے انجام تک پہنچائیں




Previous articleہمارا کیا قصور کہ یہاں پیدا ہوئے
Next articleملک بھرمیں عام تعطیل کا اعلان