ہمارا کیا قصور کہ یہاں پیدا ہوئے

http://mouj.pk/product/heamo-tablet/





مولا علیؓ نے فرمایا کہ کوئی معاشرہ کفر کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے ظلم کے ساتھ نہیں۔ میں پریشان ہوں کہ مظلوم اور معصوم بیٹی کے والد نے چیف جسٹس پاکستان اور آرمی چیف سے انصاف دلانے کی اپیل کی ہے۔ حکمرانوں سے کیوں اپیل نہیں کی۔ اس سنگین بات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ میرا خیال ہے کہ کسی کے پاس جواب نہیں۔ اب تو ہمارے پاس سوال بھی ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ مظلوم زینب کے لیے احتجاج کرنے والوں پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟میں یہ کالم لکھنے کی کوشش تو کر رہا ہوں مگر لفظ میرا ساتھ نہیں دے رہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا ہے۔ اور یہاں ایسا ایسا ظلم ہوتا ہے کہ روح لرز اٹھتی ہے۔ نیندیں اڑ جاتی ہیں۔ میں تو پاکستان کو قریہ عشق محمدؐ کہتا ہوں۔قصور میں ایک بہت بڑے صوفی اور پنجاب کے بہت بڑے شاعر بلھے شاہ کا مزار ہے۔ میں ان سے فریاد کرتا ہوں۔ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے بلھے شاہ کا جنازہ نہ پڑھنے دیا۔ اب ان کی اولادیں مزار پر دعائیں کرنے آتی ہیں مگر سلام ہو قصور کے لوگوں کو جنہوں نے زینب کو اپنی بچی سمجھا اور گھروں سے نکل آئے۔ بلھے شاہ نے نجانے کس کے لیے یہ کہا تھا
چل بلہیا چل اوتھے چلیے جتھے رہندے انھے
نہ کوئی ساڈی ذات پچھانے نہ کوئی سانوں منے
صرف قصور نہیں بلکہ سارے پاکستان میں احتجاج ہو رہا ہے۔ کراچی میں بچے بچیاں سڑکوں پر نکلے ہوئے تھے ایک بچی کہنے لگی کہ میرا نام بھی زینب ہے کیا مجھے بھی قتل کر دیا جائے گا۔پہلے بھی یہ واقعات ہوئے۔ کوئی ملزم نہیں پکڑا گیا۔ کسی حکمران نے پولیس والوں سے نہیں پوچھا۔ پولیس ان کی محافظ ہے۔ کمزور اور غریب عوام جائیں بھاڑ میں۔ حکمرانوں کی طرف سے ہر بار یہ نعرے لگائے جاتے ہیں۔ ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ یہاں صرف مظلوم اور معصوم ہی ’’کیفر کردار‘‘ تک پہنچتے رہتے ہیں۔پولیس والوں کو اپنی کارکردگی کا جواب مل گیا ہے۔ سرگودھا میں 16 سال کی ایک لڑکی کو اغوا کیا گیا اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور پھر قتل کر دیا گیا۔ تین تین سنگین جرم بلکہ ظلم! ہمارے ہاں جرم اب ظلم بن گیا ہے۔حکمرانوں کی بے حسی اور بے بسی ملاحظہ ہو کہ ایک بھی وزیر قصور میں مظلوموں کے گھر نہیں پہنچا۔ وہ ہمیشہ ظالموں کے گھر جاتے ہیں! وزیراعلیٰ پنجاب رات گئے چارپانچ بجے زینب کے گھر گئے۔ پنجاب حکومت کے سب سے بڑے ’’سیاسی محافظ‘‘ رانا ثنااللہ نے بہت تکلیف دہ بیان دیا ہے۔ وہ لوگوں کے ان بیانات کا جواب دے رہے تھے جو پنجاب پولیس کی نااہلی اور ظالمانہ رویے کے لیے دیے گئے تھے۔برادرم صدیق جاوید، طاہرہ عبداللہ، شکیل فیصل، ثمر من اللہ اور کئی دوسرے دوستوں نے بڑے درد سے بات کی۔ سارے پاکستان میں ہر شخص رنجیدہ، غمزدہ اور غصے میں بھرا ہوا ہے۔ دوسرے دن پولیس غائب ہو گئی۔ مظاہرین نے اپنی مرضی چلائی۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ ہسپتال پر حملہ کر دیا۔ اس واقعے میں کوئی مریض تو شریک نہ تھا؟ کوئی مریض اس ہنگامے میں مر بھی سکتا تھا۔ صوبائی وزیر صحت عمران نذیر نے ہسپتال کے لئے حفاظتی انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے اور رینجرز کو تعینات کرنے پر زور دیا ہے۔خورشید محمود قصوری گئے۔ وہ نہ جاتے تو پھر قصور کس طرح جاتے۔ یہ سیاسی دردمندی کی ایک مثال ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق گئے۔ سرکاری جماعت کا کوئی آدمی، قصور کا ممبر اسمبلی، عوامی نمائندہ، انتظامیہ کا کوئی آدمی زینب کے گھر نہ گیا اور نہ احتجاج کرنے والوں کے پاس گیا۔ رانا ثنا اللہ کو قصور میں ضرور جانا چاہئے تھا۔ وزیر قانون کا کام لاقانونیت کو ختم کرنا ہے۔ لاقانونیت کی وکالت کرنا تو عزت مآب وزیر قانون کا کام نہیں۔ رانا صاحب نے سارا ملبہ میڈیا پر ڈال دیا ہے جبکہ میڈیا کی وجہ سے لرزہ خیز واقعہ سب کے سامنے آیا ہے۔
قصور والوں کے لئے سارا ملک مطمئن ہے۔ وہ احتجاج نہ کرنے کے لئے خراج تحسین پیش کر رہے ہیں مگر جلاؤ گھیراؤ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ زینب کے والد نے بھی لوگوں سے کہا کہ پرامن احتجاج کریں۔ توڑ پھوڑ سے اجتناب کریں۔انہوں نے ایک اہم بات کی کہ پہلے بھی یہی تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی تھی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ حکمران اور قصور انتظامیہ کے اہلکاروں اور افسران کے رویے کو یہ بات مشکوک بناتی ہے۔ پہلے بھی اب تک بارہ تیرہ ظالمانہ بربریت کے واقعات کے لئے ایسے ہی اقدامات کئے گئے۔حکومت کے آخری دنوں میں یہ واقعہ بہت خطرناک ہے۔ اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ جہانگیر ترین، علیم خان، چودھری سرور نے بھی بہت ولولہ انگیز گفتگو کی۔ مگر میری آرزو تھی کہ عمران خان کو بھی قصور میں ہونا چاہئے تھا۔ لوگ عمران کو دیکھ کر حوصلے میں آتے۔ہماری پولیس کو ٹریننگ کی بڑی ضرورت ہے۔ آخر کیوں ہمارے لوگ پولیس کو اچھا نہیں سمجھتے۔ پولیس قربانیاں بھی دیتی ہے مگر ان سے کوئی اچھی امید کوئی پاکستانی نہیں رکھتا۔مجھے اپنا ابا مرحوم کریم داد خان یاد آتا ہے۔ ایک دفعہ انہوں نے نوجوان مقتول کی روتی ہوئی ماں کے پاس پولیس انسپکٹر کی وردی میں ملبوس زمین پر بیٹھ کے رونا شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا ماں! میں آپ کا بیٹا واپس نہیں لا سکتا مگر اس کے قاتل کو آپ کے قدموں میں ضرور لا کے ڈالوں گا۔ اس کا جواب کسی حکمران اور پولیس افسران کے پاس ہے کہ لوگ اپنی پولیس پر اعتماد کیوں نہیں کرتے۔ ممبر اسمبلی وسیم کے گھر پر مظاہرین نے حملہ کیا۔ یہ اپنے نمائندوں پر ’’اعتماد‘‘ کا حال ہے؟




Previous articleایل او سی پر اشتعال انگیزی بھارتی قائم مقام ڈپٹی ہائی کمشنر دفترخارجہ طلب
Next articleیہ نوٹس نوٹس کا دھندہ۔۔۔کالم(ڈاکٹر انصر فاروق)