وراثتی سو شل میڈیا ونگ (ملک تو صیف احمد)

http://mouj.pk/product/heamo-tablet/






مصر میں لو گ اپنے با د شا ہ کو’’ فر عون‘‘ کہتے تھے۔ فر عو ن کسی خا ص شخص کا نام نہیں ہے ۔ بلکہ شا ہا ن مصر کا لقب ہے ۔ جس طرح چین کے با د شا ہ کو’’خا قا ن ‘‘ روس کے کے با د شا ہ کو’’ را ز‘‘، روم کے با د شا ہ کو’’ قیصر‘‘ اور ایرا ن کے با د شا ہ کو’’ کسری‘‘ کہتے ہیں ۔ فر عو ن اصل میں’’ فارا ،اوہ‘‘ کا مر کب تھا ۔ مصری زبا ن میں فا را محل کو کہتے ہیں اور اوہ با معا نی او نچا محل اس سے شا ہ مصر کی ذا ت مرا د ہو تی ، لغوی معنی عظیم محل ہیں ۔ جس سے مراد با د شا ہ کا محل تھا کہ تمام فر عو ن مصری دیو تا ئو ں کی او لا د ہیں ۔ درو حا ضر میں فر سو دہ سو چ رکھنے وا لے فر عو نو ں کا رخ کر تے ہیں ۔ مریم نواز سو شل میڈیا سیل کے دو مر کزی عہدے دا ر 2فر وری کے جلسہ اور سو شل میڈیا کی تنظیم سا زی کے حوا لے سے گو جرانوالہ پہنچے۔ کہا جا تا ہے کہ ان دو مر کزی عہدیدارا ن میں سے ایک نے اپنے خطاب میں جو فر عو نیت کا مبینہ درس دیا وہ یہ کہ فو جی کا بیٹا فو جی بیو رو کریٹس کے بیٹے بیو رو کریٹس ، افسر کا بیٹا افسر اور محکوم کا بیٹا ہمیشہ محکو م ہی رہے گا ۔ ان خیا لا ت کا اظہار ایک ایم پی اے کے بیٹے اور مسلم لیگ ن کے مر کزی رہنما نے اقتدار کے نشے میں دھت ہو کر عوام کو بھیڑ بکریا ں سمجھ کر چلا ئے رکھنا کی نصیحتیں کر تے رہے اور آ پس کی سیا سی میٹنگز میں اس طر ح کے فر سو دہ نظریا ت کا کھلم کھلا اظہار کر نے لگے ہیں ۔ ہر قسم کے چیلنجز اور طو فا نو ں میں ڈٹ کر مقا بلہ کر نے وا لی سیا سی جما عت مسلم لیگ (ن) ان پسرا ن اقتدار کے منفی پرو پیگنڈے اور پا لسیو ں کے سا منے شا ید کھڑی نہ رہ سکے اور وہ دن زیا دہ دور نہیں جب یہ مقتدر طا قتو ں کی او لا د یں اس نا قا بل شکست جما عت کو چا رو ں شا نے چت کر دیں گے دھر نے پا نا مہ اسکینڈل، مخا لفین کی سا زشیں، میڈیا ٹرا ئل، عدا لتی نیب ٹرا ئل ، کیسز اور مذہبی تحریکیں وہ نقصا ن نہیں پہنچا سکیں جو لا ہو ر سے گو جرانوالہ جا نے وا لی سو شل میڈیا کی قیا دت کے بند کمرے میں بیا نا ت سے پہنچ سکتا ہے یہ نام نہا د بر ہمن عوام کو پہلے بھی شو دو ہی سمجھتے تھے ۔ مگر انہو ں نے زبا ن حا ل سے عوام کے سا منے یا پیچھے کبھی شو در نہیں کہا تھا مگر آ ج کل یہ بر بر ہمن اقتدار کے نشے میں چور ہو کر زبا ن سے بھی یہ الفا ظ استعمال کر نے لگے ہیں یہا ں با ت کا دو سرا پہلو یہ کہ مذکو رہ عہدہ دار کے خلاف سا زش یا کسی ذا تی دشمنی کا شا خسا نہ بھی ہو سکتا ہے تو اس ضمن میں سو شل میڈیا آ ر گنا ئزنگ کمیٹی کی تشکیل میں 5فیصد بھی کا رکن شا مل نہ ہیں جبکہ علا قا ئی ایم این ایز اور ایم پی ایز کے بیٹو ں ، بھا ئیو ں اور بھتجوں کو عہدے کسی خا نقا ہ کی شیر ینی کی طر ح با نٹے گئے ہیں اور اس بندر با نٹ پر بھی مذکو رہ عہدیدار کیطرف سے کسی قسم کا کو ئی در عمل دیکھنے میں نہیں آ یا ۔ آ تا بھی کیسے ؟کیو نکہ مو صو ف خو د زبا ن حا ل سے پکا ر پکار کے یہ فر ما رہے ہیں کہ فو جی کابیٹا فو جی افسر کا بیٹاافسر جج کا بیٹا جج ہو تا ہے ۔ تو پھر ہمیں بھی اقتدار وراثت میں ملا ہے میں مو رو ثی سیا ست پر یقین رکھتا ہو ں یہی وجہ ہے کہ مو صو ف کی سر برا ہی میں وراثتی سو شل میڈیا ونگ کی تشکیل عمل میں لا ئی گئی ہے ۔ یہ با ت اچنبھے سے خا لی نہیں ہے کہ ملک کی سب سے بڑی دعو یدار جمہو ریت پسند پا رٹی مسلم لیگ ن کے قا ئد میا ں محمد نواز شریف اور محتر مہ مریم نواز ان منفی پا لسیو ں سے بے خبر اس با ت پہ خو ش اور مطمئن ہیں کہ پا رٹی عہدہ دار نظریہ جمہو ریت اور میا ں محمد نواز شریف کے ایجنڈے پر من و عن عمل پیرا ہیں افسو س کے سا تھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اعلی قیا دت جن ’’آ ر گنز‘‘ کے ذریعے کا ر کنان اور عوام تک تعلق قا ئم کر نا چاہ رہے ہیں ان کو تو صرف اپنے ذا تی مفا دات ، اقر با ء پر وری اور اقتدار کے مزے لو ٹنے کے سوا کچھ سجھا ئی ہی نہیں دیتا ۔ جبکہ یہ عنا صر تو شا ید اس مفروضے پر عمل پیرا ہیں کہ ’’سنجیاں ہو جان گلیا ں وچ مرزا یار پھرے‘‘ اگر مذکو رہ عہدیدار کے خلا ف مسلم لیگ (ن) تا دیبی کارروا ئی عمل میں لا تے ہو ئے اسے عہدہ سے برطرف کر دے تو اس کا مطلب ہے کہ مسلم لیگ ن ان فر سو دہ نظریا ت کے با لکل سا تھ نہیں ہے مذکو رہ عہدیدار کا یہ عمل اس کی ذا تی خرا فا ت ہیں اور اگر( ن) لیگ اس با ت پر کو ئی کا روا ئی عمل میں نہ لا ئے تو یقینا مذکو ر کو پا رٹی کی مکمل تا ئید حا صل ہے اس کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ مو رو ثی سیا ست کے نظریے پر عمل کر تے ہو ئے بیٹو ں ، بھا ئیو ں ، بھتیجوں کو نواز نے وا لے ایم پی ایز اور ایم این ایز شا ید بھو ل گئے ہیں ووٹ صرف شیر کو ملتا ہے ان کے پا س کچھ نہیں ہے عوام اور کار کنان ان کے اس مو رو ثی سیا ست کے منفی ہتھکنڈے کو با لکل تسلیم نہیں کریں گے عوام کے پا س ووٹ کی طا قت ہے اور عوام سے ہی نما ئندے ہو ںگے یہ نسلی طور پر خو د کو فا تحین سمجھنے وا لے احمقو ں کی جنت میں بس رہے ہیں ان کو یا د رکھنا چا ہیے کہ عوام سیا سی شعور اور بصیرت رکھتے ہیں کہ نواز شریف کے خلا ف سا زشو ں کے جا ل کے با وجو د جمہو ریت کا سا تھ دیتے ہو ئے نواز شریف کا سر جھکنے نہیں دیا عوام یہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف ان کے مسا ئل کا مدا وی کر نے کی استطا عت رکھتے ہیں مسلم لیگ( ن) کے ور کر اپنی پا رٹی کے سا تھ مخلص ہیں جبکہ علا قا ئی نما ئندے ان کے خلو ص کو ان کی کمزو ری سمجھتے ہیں عہدوں کی یہ بندر با نٹ ہر پلیٹ فا رم پے برے طریقے سے مستر د ہو گی ۔ سیا ست میں سیا سی بصیرت اور اہلیت کے سا تھ سا تھ پرا نے کا ر کنان کو ملخو ظ خا طر رکھا جا تا ہے ایم پی ایز اور ایم این ایز کے نا با لغ بچے جن کو سیا ست کی ’’الف ‘‘ ’’ب‘‘کا بھی نہیں پتہ ان کو عہدے دے کر کا ر کنان کی تذلیل اور حو صلہ شکنی کی گئی ہے لیگی کا رکن شا ید اپنے لیڈر سے یہی تو قع رکھتے ہیں کہ فو ری طور پر کا ر کنان کی استحصا لی کو بند کر نے اور ان کی حو صلہ افزا ئی کر نے لئے احکا ما ت صا در فر ما ئیں گے جو کہ بظا ہر نا ممکن نظر آ تے ہیں عوا می نما ئندوں کے اس رویہ نے نہ صرف نواز شریف کے نظریہ کو نقصا ن پہنچا یا ہے بلکہ کا ر کنو ں اور عوام میں شدید ما یو سی کی وجہ بھی بنا ہے البتہ خود کو بر ہمن اور عوام کو شو در سمجھنے وا لے اشرا فیہ نے اپنا تعلق او نچی ذات سے تو بتا دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کے نزدیک شو در 2018کے الیکشن میں ان بر ہمنوں کی تقدیر کا کیا فیصلہ سنا تے ہیں۔






Previous articleمسلم لیگ(ن) کے 6 رہنما ؤں نے بڑی سیاسی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا
Next articleچیچہ وطنی: نواحی گاؤں 108/12ایل کے قریب ڈکیتی کی واردات،مزاحمت پر فائرنگ سے نوجوان زخمی