ویلنٹائن ڈے ۔۔۔۔۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر محمد اسمٰعیل بدایونی

http://mouj.pk/product/heamo-tablet/






ہاں بھئی یہ آج بچے کہاں غائب ہیں ؟میں اپنی کلاس میں پہنچا تو خلافِ معمول کلاس میں بچوں کی تعداد کم دیکھ کر پوچھامعلوم ہوا آج سب ویلنٹائین ڈے منا رہے ہیں ۔نسلِ نو کس ڈگر پر چل پڑی ہے ۔دل بہت اداس اور غمگین تھا ۔کیوں کہ ان بچوںمیں میرا بیٹا اور میری بیٹی دونوں ہی تو تھے ۔میں ایک مقامی کالج میں استاد ہوں ایک استاد کے لیے اس کے شاگرد بیٹے اور بیٹیاں ہی تو ہوتے ہیں۔اگلے دن جب کلاس میں پہنچا تومیں نے ان سے کہا آج میں تمہیں ایک لطیفہ سُناتا ہوں دو لبرل دوست آپس میں ملے اور ایک دوست نے دوسرے دوست سے پوچھا اس دفعہ ویلنٹائین ڈے پر گرل فرینڈ کو کیا تحفہ دیا ؟یار اس سال پیسے ہی نہیں بچے بہن کی رنگ تھی وہ ہی دے دی میں نے گرل فرینڈ کو دوست نے اپنے دوست کے ایک تھپڑ مارا اور کہا : ابے گدھے وہ ڈائمنڈ کی رنگ تھی ڈائمنڈ کی ۔دوسرے دوست نے جواب میں اپنے دوست کے تھپڑ مارا اور کہا: ابے تو ناراض کیوں ہوتا ہے تیرے ہی گھر تو گئی ہے ۔پوری کلاس قہقہہ لگا کر ہنس پڑی ۔میرے بچو! یہ میڈیا ویلنٹائن ڈے شروع ہونے سے پہلے ہی تمہیں یاد دلانا شروع کر دیتا ہے ۱۴ فروری آنے والا ہے تیاری کر لو ۔پروگرامز ہو نے لگتے ہیں آئس پارلرز میں بکنگ ہونے لگتی ہے اور وہ سب کچھ ہو تا ہے جسے ابھی تم مکمل نہیں جانتے یہ تمہارےکمزور ذہنوں اور ابھرتے جذبات کو کچل دیتے ہیں۔پھر جب نتائج آتے ہیں تو جذبات سہم جاتے ہیں تو تم پوچھتے ہو خود سے یہ بھول کیوں ہوئی ؟اس بھول کو کس نے پروان چڑھایا؟یہ میڈیا تھا لیکن تمہیں اتنی سمجھ تھی ہی کہاں ؟ وہ اخبارات جو کسی غریب بیوہ کے لیے دو سطر مفت میں نہ چھاپتے ہوں ۔کسی غریب کے لیے جن کے چینل پر ٹائم نہ ہو وہ تمہارے ویلنٹائن ڈے کے پیغامات مفت چھاپتا رہا کیوں ؟ یہ سب باتیں تمہیں سوچنی ہیں ۔اب وہ سمجھو جو سمجھنے کی بات ہے ۔ایک بات بتاؤ پوری کلاس خاموشی سے میری بات سُن رہی تھی ۔اگر ہم اس چھت جس کے نیچے اس وقت ہم بیٹھے ہوئے ہیں اس کے اطراف موجود دیواروں کو گرانا شروع کرد یں تو نتیجہ کیا نکلے گا ؟یہ چھت ہم پر گر پڑے گی ۔تمام بچوں نے ایک ساتھ جواب دیا بیٹا ! آپ جن اقدار کی دیواروں کوگرا رہے ہو اس کی چھت تم ہی پر گرے گی ۔تم اٹھ نہیں پاؤ گے ۔۔۔کیا تم گوارا کرتے ہو تمہاری بہن کا کوئی اسیکنڈل سوشیل میڈیا یا میڈیا کی زینت بنے ؟کیا تم چاہو گے تمہیں مستقبل میں کوئی ایسی شریک حیات ملے جس کے اسکینڈل سوشیل میڈیا کی زینت بن چکے ہوں ؟یا تم اگر بیٹی ہو تو چاہو گی ایک ایسا شخص تمہارا شریک سفر ہو جس کا دامنِ پا کیزگی تار تار ہو ؟کیا تم ایک اچھی اور آسودہ زندگی گزر سکو گے ؟ تم ایک دوسرے پر اعتماد کر سکو گے ؟ میرے بچو! معاشرے پر موجود اقدار کی یہ چھت اگر گر گئی تو تمہاری زندگیاں اجیرن ہو جائیں گی ۔آؤ ! اس لبرل فتنے کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دو آؤ اپنی سوسائیٹی کو ویلنٹائین ڈے کی غلیظ رسم سے آزاد کرائیں ۔






Previous articleلودھراں میں تحریک انصاف کا جلسہ ،کل کتنے لوگ شریک تھے؟ حیران کن اعدادوشمار منظرعام پر
Next articleپولن الرجی اور احتیاطی تدابیر