فوٹوگرافر بننے کا کبھی سوچا نہ تھا – اردو سائٹ

فوٹوگرافر بننے کا کبھی سوچا نہ تھا - ایکسپریس اردو
http://mouj.pk/product/heamo-tablet/

دنیا کے مقبول ترین برانڈزکے ساتھ کام کرنے والے پاکستانی نژادعدنان قاضی کی گفتگو۔ فوٹو: سوشل میڈیا

دیارغیرمیں بسنے والے پاکستانیوں کی بات  کی جائے توبہت سے باصلاحیت لوگ ایسے ہیں، جن کے کارناموں نے دنیا بھرمیں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔

کوئی بزنس کے شعبے میں کمال دکھا رہا ہے توکوئی کھیل میں ، کوئی سائنس اورانفارمیشن ٹیکنالوجی میں راج کررہا ہے توکوئی صحت میں ، لیکن چند ایک ایسے باکمال لوگ ہیں، جنہوں نے مغربی دنیا کی شوبز انڈسٹری میں اپنی صلاحیتوں کے بل پرایسے کارنامے انجام دیئے ہیں، جن پرپوری پاکستانی قوم فخرکرتی ہے۔ ایسے ہی پاکستانیوں میں ایک نام عدنان قاضی کا بھی ہے۔

جنہوں نے بطورفوٹوگرافراپنا فنی سفربرطانیہ میں شروع کیا لیکن بہت جلد بطورویڈیو ڈائریکٹربھی شہرت کی بلندیوں کوچھونے لگے۔ کہنے کوتووہ پاکستانی ہیں لیکن اس وقت مغربی دنیا کے بہت بڑے بڑے برانڈزاپنے کمرشلز بنوانے کیلئے ان کی خدمات حاصل کرنے کوترجیح دیتے ہیں۔

عدنان قاضی کی زندگی پرنظرڈالیں توان کا تعلق پاکستان کے خوبصورت شہرایبٹ آباد سے ہے۔ 2005ء میں آنے والے قیامت خیز زلزلہ کے بعد وہ برطانیہ چلے گئے ، جہاں اپنی تعلیم مکمل کی اوراسی دوران کچھ فلم میکنگ کے حوالے سے شارٹ کورسز بھی کئے۔  حالانکہ انہیں فوٹوگرافی بالکل پسند نہ تھی لیکن قسمت کوتوکچھ اورہی منظورتھا۔  جونہی ان کے ہاتھ میں کیمرہ آیا توپھرانہوں نے مُڑکرپیچھے نہ دیکھا۔

قدرت کے خوبصورت نظارے ہوں یا فیشن کے رنگ، انہوں نے بھرپوراندازسے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اورمختصر عرصہ میں ان کا شمار برطانیہ کے ٹاپ ٹین فیشن فوٹوگرافرزمیں ہونے لگا، جوکہ بطورپاکستانی ہم سب کیلئے فخرکی بات ہے۔ وہ دنیا کے بڑے بڑے برانڈز کے ساتھ کام کرتے چلے گئے اوراپنی کامیابی کی منزلیں طے کرتے ہوئے اپنے قدم روکے نہیں بلکہ اس سفرکومزید آگے بڑھانے کیلئے آج بھی رواں دواں ہیں۔  اس سلسلہ میں انہوں نے برطانیہ سے ’’ایکسپریس ‘‘ کو خصوصی ٹیلیفونک انٹرویو دیا، جو قارئین کی نذرہے۔

عدنان قاضی نے بتایا’’ میں نے اپنی ابتدائی تعلیم ایبٹ آباد میں حاصل کی۔ ’’ برن ہال اور کیڈٹ کالج‘‘ میں تعلیم کے بعد برطانیہ آیا۔ یہاں سب نیا تھا لیکن کچھ کردکھانے کے جذبے نے مجھے سونے نہ دیا۔ میں نے اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ فراغت کے لمحات میں اپنی صلاحیتوں کوابھارنے کیلئے بہت محنت کی۔  یہی وجہ تھی کہ میرے کام سے متاثرہوکر دنیا کے بڑے برانڈز ’مرسڈیز اور سوزوکی‘ سمیت کئی دوسروں نے میرے ساتھ کام کیا۔

فوٹوگرافی کا سلسلہ توجاری تھا لیکن میں نے اس کے ساتھ ڈائریکشن کے شعبے میں بھی قدم رکھا  اورکمرشل بنانے کے ساتھ کچھ گیت بھی ڈائریکٹ کئے۔ مگرمیرا زیادہ ترکام برطانیہ اوریورپ سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ رہا۔ لیکن جب بھی موقع ملتا تومیں اپنے وطن کے لوگوں کے ساتھ بھی کام کرتا۔

بطورویڈیوڈائریکٹرمیرا پہلا پراجیکٹ ’سوچ بینڈ‘ کے ساتھ رہا۔ اس ویڈیوکوبہت پسند کیا گیا۔ اس کے بعد بطورلائن پروڈیوسرکچھ عرصہ پہلے ریلیزہونے والی فلم ’’ارتھ ٹو‘‘ میں کام کیا اوراداکارہ حمائمہ ملک پرفلمائے جانے والا گیت ’’ہوگئی تیری عادت‘‘ کو ڈائریکٹ بھی کیا۔ یہ ایک نیا تجربہ تھا ، جس کا زبردست رسپانس ملا۔ یہی نہیں پاکستان کے معروف گلوکارفرحان سعید جومیرے پرانے دوست بھی ہیں۔ ان کے ساتھ حال ہی میں ایک ویڈیوپرکام کیا۔ اس ویڈیوکولندن کی خوبصورت لوکیشنز پرشوٹ کرنے کے بعد جب ہم نے یوٹیوب پراپ لوڈ کیا توراتوں رات اس کودیکھنے والوں کی تعداد 50لاکھ تک پہنچ گئی۔

دوسری جانب اس گیت اورویڈیو کوبھارت کی معروف میوزک کمپنی یونیورسل نے ریلیز کیا ، جبکہ اس کے پروڈیوسررشی رچ تھے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بطورفوٹوگرافرکام کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی فیشن انڈسٹری کی سپورٹ اورفروغ  کیلئے برطانیہ میں اکثرایونٹس کا انعقاد بھی کرتا رہتا ہوں۔ ’ فیشن پریڈ‘  کے نام سے لندن میں ہونے والے فیشن شوز کی بدولت پاکستانی ڈیزائنرز کوپہلی بار بڑے پیمانے پراپنا کام متعارف کروانے کا موقع ملا اوراس طرح سے پاکستان کی عکاسی کرتے ملبوسات برطانیہ اوریورپ سے تعلق رکھنے والے لوگوںکی توجہ کا مرکزبنتے رہے۔ یہ مرحلہ خاصا مشکل تھا لیکن میں نے ان شوز کوکامیاب بنانے کیلئے خاصی محنت کی اورہمیں ان ایونٹس کے انعقاد پراچھا رسپانس ملا۔

ایک سوال کے جواب میں عدنان قاضی نے بتایا کہ مستقبل میں  میرا ارادہ فلم بنانے کا ہے۔ جس کیلئے میں نے پیپرورک شروع کردیا۔ فلم کی شوٹنگ کیلئے میں نے برطانیہ اور یورپ کی خوبصورت لوکیشنز کا انتخاب کرلیا ہے۔ لیکن جہاں تک بات فلم کی کاسٹ کی ہے تواس میں پاکستان کے باصلاحیت فنکاروں کے ساتھ ساتھ بالی وڈ سے تعلق رکھنے والے فنکاروںکوبھی سائن کیا جائے گا۔

اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بالی وڈکی انڈسٹری اس وقت پروفیشنل لوگوں سے بھری پڑی ہے۔ وہاں کے فنکاراورتکنیک کاراپنے کام اورتجربے کی بدولت بہترین کام انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بالی وڈ فنکاروں کی مارکیٹ بھی بڑی ہے۔ اس لئے ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے پاکستانی فنکاراورتکنیک کاروںکو سیکھنے کا موقع ملے گا۔ یہی نہیں دیکھا جائے توپاکستانی فلم اورسینما کومضبوط کرنے کیلئے اس وقت بالی وڈ کے ساتھ مل کرکام کرنے میں  سب کا فائدہ ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ آج کے دورمیں بالی وڈ ایک بہت بڑی اورکامیاب فلم انڈسٹری بن چکی ہے۔

عدنان قاضی نے پاکستانی فلم پربات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ اس وقت پاکستان میں اچھی اورمعیاری فلمیں بن رہی ہیں اور سینما گھروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے لیکن ابھی منزل خاصی دوردکھائی دیتی ہے۔ پاکستانی فلم اورسینما کوانٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی کیلئے کڑی محنت کرنا ہوگی۔ بلاشبہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن درست سمت میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ایسا نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک نتائج نہیں ملیں گے۔ کیونکہ اس وقت دنیا بھرمیں فلمسازی کا انداز بدل چکا ہے۔

ٹیکنالوجی کی اس دنیا میں اب وہی لوگ آگے بڑھ رہے ہیں، جووقت کے ساتھ اپنے کام میں تبدیلی لارہے ہیں اورجولوگ پرانی تکنیک کے ساتھ فلمیں بنانے کی کوشش میں ہیں، ان کے ہاں سینما گھرویران دکھائی دیتے ہیں۔ اس لئے پاکستان میں کام کرنے والے لوگوںکوبہت سمجھداری کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انٹرویو کے آخرمیں عدنان قاضی نے بتایا کہ میری ڈریسنگ سے بہت لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ میں جس تقریب میں شریک ہوتا ہوں تومجھ سے ایک ہی سوال پوچھا جاتا ہے یا کہا جاتا ہے کہ میرے ملبوسات کی کولیکشن بہت منفرد اورنرالی ہے تومیں آج سب کوبتانا چاہتا ہوں کہ ملبوسات اوران کے رنگوں کے انتخاب میں ، میرے آئیڈیل میرے والد ہیں۔ جوبہت ہی خوش لباس انسان ہیں۔ ان کودیکھ دیکھ کرمجھے بھی کپڑے پہننے کا سلیقہ آیا اورآج اس انداز کوسب لوگ بہت پسند کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میری شخصیت میں جوانفرادیت دکھائی دیتی ہے، وہ میرے والد کی  طلسمی شخصیت کی ایک ہلکی سی جھلک ہے۔

 

بشکریہ ایکسپریس نیوز
https://www.express.pk/story/1276693/24