ناسا کا مریخ پر ہیلی کاپٹر بھیجنے کا اعلان – اردو سائٹ

http://mouj.pk/product/heamo-tablet/

یہ ہیلی کاپٹر ناسا کے ’خلائی مشن مریخ 2020‘ کا حصہ ہوں گے (فوٹو : ناسا)

 واشنگٹن: ناسا نے اپنے خصوصی مشن کے لیے خلائی گاڑی کے ہمراہ ’ہیلی کاپٹر‘ بھیجنے کا اعلان کردیا جو مریخ پر کسی پرندے کی طرح پرواز کرتے ہوئے فضائی جائزہ لے سکے گا۔

امریکا کے خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے جولائی 2020ء میں مریخ پر ڈرون ہیلی کاپٹرز بھیجنے کی تیاری مکمل کرلی۔ یہ چھوٹا لیکن تیز پرواز کرنے والا ہیلی کاپٹر خلائی گاڑی کے ہمراہ مشن ’مریخ 2020‘ پر رخت سفر باندھے گا جسے  ہوا سے قدرے وزنی ایئر کرافٹ کا نام دیا گیا ہے اس ہیلی کاپٹر کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ مریخ کی سرزمین پر آزادانہ اُڑان بھرسکے گا اور سرخ سیارے میں چُھپے دلچسپ رازوں سے دنیا کو آگاہ کرسکے گا۔ اس مشن پر گزشتہ 4 سال سے کام جاری ہے۔

ناسا نے مریخ میں خلائی مشن کے ہمراہ ہیلی کاپٹر بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس حیرت انگیز ایجاد کا تجربہ جولائی 2020ء میں کیا جائے گا جس کا وزن 4 پاؤنڈ لیکن اس کی پرواز تیز ہوگی، یہ پہلا تجربہ ہوگا جس میں سرخ سیارے پر ایک ہیلی کاپٹر کو پرواز کرتے دیکھا جاسکے گا جس کا مقصد اس سیارے سے متعلق پوشیدہ معلومات کی کھوج لگانا ہے۔

ہیلی کاپٹر کی ساخت ڈرون کی طرح ہے اور دیکھنے میں یہ ایک ڈرون ہی محسوس ہوتا ہے لیکن اس میں ایک ہیلی کاپٹر کی تمام خصوصیات بھی موجود ہیں۔ زمین کے برعکس مریخ میں پرواز کے لیے اس کا وزن نہایت ہلکا رکھا گیا ہے تاکہ مریخ کے کم کرہ ہوائی کے دباؤ میں بھی یہ ہیلی کاپٹر بآسانی اُڑ سکیں۔ اس کے علاوہ یہ ہیلی کاپٹر ایسی ٹیکنالوجی سے بھی لیس ہے جو مریخ کی سطح کی ساخت، ماحول، آثار قدیمہ اور دیگر خطرات سے متعلق معلومات کا مشاہدہ کرکے ڈیٹا کو محفوظ بھی کرسکے گا۔

ناسا کے ماہرین کا دعویٰ کیا ہے کہ ہیلی کاپٹر کی مریخ میں پرواز سے ایسی معلومات کا حصول ممکن ہوجائے گا جو سیارے پر جانے والے خلا نورد حاصل نہیں کرپاتے جس سے سیارے کی ہیئت اور خلائی دنیا کے رموز کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز
https://www.express.pk/story/1174654/508